نئی دہلی: بھارتی میگزین نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت سفارتی محاذ پر ناک آؤٹ ہو چکا ہے، پاکستان کا ایران امریکا جنگ میں ثالث بن کر ابھرنا بھارت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
پالیسی میگزین میں بھارتی صحافی و تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مودی نہیں بلکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سفارتکاری کے مرکز ہیں، خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے، پاکستان نے سفارتکاری سے اپنا کردار بڑھایا ہے۔
آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا، بھارت کو بڑا سفارتی دھچکا لگا ہے کیونکہ نئی دہلی اہم مشرقِ وسطیٰ مذاکرات سے باہر ہو گیا، مودی حکومت کے لیے سبکی، امریکہ کے ساتھ بھارت کا اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے، عالمی طاقتیں اب پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتیں، پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کا بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آیا، مودی کی خارجہ پالیسی ہر محاذ پر ناکام ہوئی۔
فارن پالیسی میگزین میں شائع مضمون کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر 1971 جیسا سفارتی کردار حاصل کر لیا، پاکستان امریکا، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پل بن گیا، ٹرمپ نے مودی کے بجائے پاکستان پر اعتماد کیا۔
بھارتی صحافی کے مطابق پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے بھارت کا بیانیہ ختم کر دیا، بھارت صرف بیانات تک محدود، پاکستان عملی سفارتکاری کر رہا ہے۔
THE PUBLIC POST