امریکی فوج نے ایران کے سمندری راستوں پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے بحری ناکہ بندی کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکا نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر جانے والے تمام جہازوں کی آمد و رفت پر عارضی طور پر پابندی نافذ کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق خاص طور پر خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں کے اطراف میں ہوگا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق اس اقدام کے تحت ایسے تمام بحری جہاز جو مقررہ اجازت کے بغیر ناکہ بندی والے علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے، انہیں روکا جائے گا، ان کا راستہ تبدیل کیا جائے گا یا ضرورت پڑنے پر تحویل میں لیا جائے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد خطے میں سمندری سرگرمیوں کو کنٹرول کرنا اور سیکیورٹی اقدامات کو نافذ کرنا ہے۔
اس صورتحال میں اسرائیل کے وزیرِاعظم نے بھی ایران کی بندرگاہوں کی بندش کے امریکی فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹ کام نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھی محدود ناکہ بندی کا نفاذ کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق خلیجی اتحادی ممالک پہلے ہی اس کارروائی میں تعاون کر رہے ہیں، اور جلد ہی مکمل نفاذ شروع کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدامات 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے مؤثر ہوئے، جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق یہ کارروائی شام 7 بجے سے شروع ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
THE PUBLIC POST