بھارتی شہر ممبئی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار ہلاکت کا واقعہ پیش آیا، جہاں ابتدائی طور پر اموات کی ممکنہ وجہ فوڈ پوائزننگ قرار دی جا رہی ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق 40 سالہ عبداللّٰہ عبدالقادر، ان کی اہلیہ نسرین، اور بیٹیاں عائشہ اور زینب ہفتہ کی شب کھانا کھانے کے بعد گھر واپس آئے۔ رات گئے تربوز کھانے کے چند گھنٹوں بعد تمام افراد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔
اتوار کی صبح اہل خانہ کو شدید قے اور دست کی شکایت ہوئی، جس پر انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید تشویشناک حالت میں جے جے اسپتال منتقل کیا گیا۔
سب سے پہلے کم عمر زینب دم توڑ گئیں، جبکہ بعد ازاں نسرین اور عائشہ بھی جانبر نہ ہو سکیں۔ خاندان کے سربراہ عبداللّٰہ عبدالقادر بھی رات گئے انتقال کر گئے۔
ابتدائی معائنے میں ڈاکٹر زید قریشی نے بتایا کہ مریض شدید کمزوری اور مسلسل قے کی حالت میں تھے، جبکہ اہل خانہ کے مطابق انہوں نے تربوز بھی کھایا تھا۔
پولیس نے واقعے کو حادثاتی موت قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ مشتبہ تربوز کو تحویل میں لے کر لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔
محکمہ خوراک اور فارنزک ماہرین تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا خوراک میں کوئی زہریلا مادہ یا بیکٹیریا موجود تھا۔ حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی اموات کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔
THE PUBLIC POST