اوگرا میں مبینہ میگا کرپشن اسکینڈل،Go Petroleum سمیت متعدد کمپنیوں کیخلاف تحقیقات تیز

ایف آئی اے نے ممبر آئل اوگرا زین العابدین قریشی کو طلب کرلیا، پٹرولیم اسٹاکس میں ہیر پھیر اور اربوں کے PDC فراڈ کی چھان بین

کراچی (رپورٹ: عمران خان) ملک کے پٹرولیم سیکٹر میں مبینہ میگا کرپشن اسکینڈل نے نیا رخ اختیار کر لیا، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے اوگرا اور متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ممبر آئل اوگرا زین العابدین قریشی کو طلب کر لیا ہے، جبکہ Go Petroleum سمیت کئی کمپنیوں کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کا مرکز پیٹرولیم اسٹاکس میں مبینہ ہیر پھیر، مصنوعی قلت، غلط رپورٹنگ، پرائس ڈیفرینشل کلیمز (PDCs) میں اربوں روپے کے مبینہ فراڈ اور ریگولیٹری اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال پر ہے۔ ایف آئی اے حکام شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مبینہ طور پر اسٹاک پوزیشن میں ردوبدل اور ذخائر چھپا کر نہ صرف غیر قانونی مالی فوائد حاصل کیے بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے انکوائری نمبر 43/2026 کے تحت ممبر آئل اوگرا زین العابدین قریشی کو باضابطہ کال اپ نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مئی 2026 بروز پیر صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی شواہد کی روشنی میں آئل سپلائی چین، اسٹاک مانیٹرنگ اور قیمتوں کے نظام کی نگرانی سے متعلق اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ Go Petroleum سمیت متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر چھپانے، غلط اعداد و شمار فراہم کرنے، PDC کلیمز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ٹرمینل آپریٹرز و ریگولیٹری اہلکاروں کے ساتھ ممکنہ ملی بھگت کے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بعض کمپنیوں کو مبینہ طور پر غیر معمولی سہولتیں اور ریلیف کیسے فراہم کیا گیا۔

ایف آئی اے نے اوگرا حکام سے حساس نوعیت کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے، جس میں PDC میکانزم، کلیمز کی منظوری، انسپیکشن رپورٹس، آئل ٹرمینلز کے معائنے، شوکاز نوٹسز، اسٹاک آڈٹ اور اہم انتظامی فیصلوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ریگولیٹری نگرانی میں دانستہ نرمی برتی گئی یا بعض عناصر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مخصوص کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔

تحقیقات سے جڑے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کیس میں مزید اہم شخصیات، آئل کمپنیوں کے افسران اور متعلقہ ریگولیٹری حکام کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق شواہد کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر قانونی کارروائی، گرفتاریوں اور مزید انکوائریز کا دائرہ وسیع کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ پٹرولیم سیکٹر میں جاری اس تحقیقات نے اوگرا کے ریگولیٹری نظام اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Check Also

سٹی کونسل اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری،گل پلازہ ملبہ اٹھانے کیلئے 3 کروڑ روپے منظور

کراچی: سٹی کونسل کے اجلاس میں گل پلازہ کا ملبہ اٹھانے کے لیے 3 کروڑ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *