کراچی: ضلع ایسٹ اور ضلع ساؤتھ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف الگ الگ کارروائیوں میں بدنام زمانہ خاتون منشیات فروش سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد شہر کے مختلف علاقوں میں ہیروئن، چرس اور آئس کی سپلائی میں ملوث تھے۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق خفیہ اطلاع پر گلستانِ جوہر کی کامران چورنگی کے قریب کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب منشیات فروش ملزمہ شیرین عرف شرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ طویل عرصے سے منشیات کے کاروبار میں ملوث رہی ہے اور اس کے خلاف سہراب گوٹھ، سائٹ سپر ہائی وے، نیو کراچی، گلشنِ معمار، ملیر اور دیگر تھانوں میں تقریباً 35 مقدمات درج ہیں۔
پولیس کے مطابق شیرین عرف شرینہ ماضی میں سہراب گوٹھ میں منشیات کا بڑا اڈا چلاتی تھی، تاہم پولیس کے مسلسل چھاپوں کے بعد اس نے اپنا ٹھکانہ گلستانِ جوہر منتقل کر لیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہو کر جیل گئی تھی اور تقریباً دو سال قبل رہائی کے بعد دوبارہ سرگرم ہو گئی تھی۔
ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق ایک مقدمے میں ملزمہ کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ہیروئن فروخت کرتی تھی جبکہ نشے کے عادی افراد فلیٹ کے باہر ہی منشیات استعمال کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے شوہر اور بیٹوں کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج ہیں اور وہ ماضی میں کئی بار گرفتار ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب بوٹ بیسن پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مزاحمت کے بعد بدنام زمانہ منشیات فروش یاسین عرف شوٹر کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق ملزم پولیس کو دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاہم تعاقب کے بعد اسے دھر لیا گیا۔
پولیس نے ملزم کے قبضے سے 55 گرام آئس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یاسین عرف شوٹر کلفٹن اور ڈیفنس کے مختلف علاقوں میں آئس سمیت دیگر منشیات کی سپلائی میں ملوث رہا ہے اور بوٹ بیسن تھانے میں درج مقدمات میں مفرور تھا۔
پولیس نے دونوں کارروائیوں کے بعد گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ان کے نیٹ ورک اور ساتھیوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
THE PUBLIC POST