تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں جہاں ان کا جسد خاکی تہران کے امام خمینی حسینیہ سینٹر میں رکھا گیا ہے تاکہ عوام، رہنما اور معزز شخصیات آخری دیدار کر سکیں۔
دارالحکومت تہران میں تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مصلیٰ الکبیر اور دیگر اہم مقامات پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ ہیں جبکہ لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر متعلقہ ادارے مسلسل تیاریاں کر رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات نے امتِ مسلمہ کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے۔ ان کے بقول یہ سرخ سفر کا اختتام نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ متحد، مضبوط اور پُرامید ہو کر ابھرتی ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ آخری رسومات میں بھرپور شرکت کر کے قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کے انقلاب اسکوائر میں آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب علامتی مٹھی بھی نصب کر دی گئی ہے جو آخری رسومات کی تیاریوں کا حصہ ہے جبکہ ملک بھر میں سوگ کی فضا نمایاں ہے۔
THE PUBLIC POST