واشنگٹن: امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ ایک خبر میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلیٰ معاونین کی کئی دنوں کی بریفنگ کے بعد ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کو بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی صدر جن آپشنز پر غور کر رہے ہیں، ان میں ایران پر فضائی حملوں میں شدت لانا، آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزائر پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی افواج بھیجنا اور ایک قلعہ بند جگہ پر بمباری کرنا شامل ہے، جسے خفیہ جوہری کام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے منگل کی شام اسیٹویشن روم میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں حکومتی اور فوجی حکام کے ساتھ امریکی فوجیوں کے استعمال سے آبنائے ہرمز کے ساتھ جزیرہ خرگ اور دیگر علاقوں پر ممکنہ قبضے کے ساتھ ساتھ پکیکس ماؤنٹین پر ایک سرنگ کمپلیکس پر ممکنہ بمباری کے بارے میں بات چیت کی گئی۔
اجلاس میں امریکا کے ایران کی جوہری تنصیبات سے منسلک نشانہ بنانے کا آپشن بھی زیر غور آیا۔ اس کے علاوہ ایران میں مزید اہداف کے خلاف فضائی حملوں میں توسیع، بشمول توانائی کے مقامات پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایرانی پُلوں پر حملوں کی ڈیڈ لائن سے متعلق صحافیوں کے سوال پر کہا تھا کہ انھیں ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رہنما ملاقات کر کے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ایران کو اپنا رویہ بہتر کرنا چاہیے، پھر ہم دیکھیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں یا نہیں۔
THE PUBLIC POST