لندن/دبئی/اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کی “پاکستان کی اعلی شخصیات سے مدد کی اپیل، دھمکیاں دینے کا ملزم ایف آئی آر اور ہائیکورٹ مداخلت کے باوجود آزاد، اثاثے قانونی طریقہ کار کے بغیر نیلام کیے جا رہے ہیں، بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین نے “پاکستان کی اعلی شخصیات سے براہِ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اپیل میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے مالی اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 238.6 ارب روپے کی کم از کم تخمینی مارکیٹ مالیت کے اثاثے پہلے ہی نیلام کیے جا چکے ہیں، قبضے میں لیے جا چکے ہیں یا اس وقت نیلامی اور فروخت کی کارروائیوں کی زد میں ہیں، اپیل میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 372 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کام اس وقت معطل ہیں،انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر قبضے میں لینے اور نیلام کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک ریاض حسین اور ان کے خاندان کو سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں نامزد شخص، ایف آئی آر کے اندراج اور بعد ازاں ہائی کورٹ کی مداخلت کے باوجود تاحال آزاد ہے۔
ایک تفصیلی اپیل میں ملک ریاض حسین نے “پاکستان کی اعلی شخصیات کی توجہ بحریہ ٹاؤن اور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی کی جائیدادوں کو مسلسل منجمد کرنا، قبضے میں لینا اور نیلام کرنا وسیع پیمانے پر اقتصادی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔
اپیل میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعدد مقدمات اور متعلقہ جائیدادوں و اقدامات سے متعلق عدالتی کارروائیاں مجاز فورمز کے سامنے زیرِ التوا ہونے کے باوجود بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کو جبری طور پر قبضے سے نکال کر انتہائی کم اور غیر حقیقی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
THE PUBLIC POST