کتے کے کاٹنے کے کتنے گھنٹوں کے اندر اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا ضروری ہے؟

آج کل آوارہ اور پالتو کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کتے کا کاٹنا انسان کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے جسم میں کئی خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ان میں سب سے خطرناک بیماری ریبیز یعنی پاگل پن کی بیماری ہے، جو اگر ایک بار دماغ تک پہنچ جائے تو اس کا کوئی علاج نہیں اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہت ضروری ہے۔

ریبیز ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو ریبیز وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے تھوک کے ذریعے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے، خاص طور پر کاٹنے یا خراش کی صورت میں۔ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد اعصابی نظام کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ریبیز کی علامات ظاہر ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس دوران متاثرہ شخص کو بخار، الجھن، بے چینی، غیر معمولی رویے، ہذیان اور بعد میں جسم کے مختلف حصوں میں فالج جیسی علامات ہوسکتی ہیں۔ ایک بار بیماری کی واضح علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہوجاتی ہے۔

کتے کے کاٹنے کے بعد ویکسین کب لگوانی چاہیے؟

این ڈی ٹی وی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ریبیز کی ویکسین جتنی جلدی ممکن ہو لگوانی چاہیے اور بہتر ہے کہ کاٹنے کے 24 گھنٹے کے اندر پہلا ٹیکہ لگ جائے۔ اس معاملے میں یہ سوچنا خطرناک ہوسکتا ہے کہ چند دن انتظار کرکے دیکھا جائے کہ ریبیز کی علامات ظاہر ہوتی ہیں یا نہیں۔

ایک غلط فمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جب بیماری کی علامات ظاہر ہوں گی تب دوا لے لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ویکسین صرف اس وقت تک کام کرتی ہے جب تک وائرس دماغ تک نہیں پہنچتا۔ ایک بار علامات ظاہر ہو جائیں تو پھر یہ دوا اثر نہیں کرتی۔

اینٹی ریبیز ویکسین عام طور پر مقررہ شیڈول کے مطابق کئی خوراکوں میں دی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دن 0، 3، 7، 14 اور 28 کو پانچ خوراکوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ویکسین کا درست شیڈول ڈاکٹر مریض کی حالت اور طبی ہدایات کے مطابق طے کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر زخم کی نوعیت کو دیکھ کر دوسری دوائیں اور ٹیکے بھی لگاتے ہیں تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔

کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد کیا کریں؟

کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر کچھ بنیادی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بیماری کے پھیلنے کا خطرہ کم ہو سکے۔

سب سے پہلے زخم کو چلتے ہوئے پانی اور صابن کے ساتھ کم از کم پانچ سے دس منٹ تک اچھی طرح دھوئیں، لیکن زخم کو زور زور سے رگڑیں نہیں۔ یہ سب سے اہم قدم ہے کیونکہ اس سے وائرس کا بڑا حصہ جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔

زخم دھونے کے بعد اسے خشک کرکے آئیوڈین پر مبنی جراثیم کش دوا، جیسے پوویڈون آیوڈین، لگائی جاسکتی ہے۔

اگر زخم سے خون بہہ رہا ہو تو کسی صاف کپڑے سے ہلکا دباؤ ڈال کر خون کو روکنے کی کوشش کریں۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ زخم کو بہت زیادہ کس کر باندھا نہ جائے اور نہ ہی فورا ٹانکے لگائے جائیں تاکہ وائرس اندر بند نہ ہو سکے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد گھر پر علاج کرکے معاملہ ختم نہ سمجھیں بلکہ جلد از جلد ڈاکٹر یا اسپتال پہنچیں۔ ڈاکٹر زخم کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کرے گا کہ ریبیز ویکسین، ٹیٹنس یا کسی اور علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ریبیز کے معاملے میں سب سے بڑا خطرہ تاخیر ہے۔ اس لیے کتے کے کاٹنے کے بعد علامات کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طبی مدد لینا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ ویکسین شروع ہونے کے بعد ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا اور مقررہ خوراکیں مکمل کرنا بھی ضروری ہے۔

زخم میں بڑھتی ہوئی سرخی، سوجن، پیپ یا دیگر انفیکشن کی علامات ظاہر ہوں تو بھی فوراً طبی معائنہ کروانا چاہیے۔

Check Also

ایشیا کپ: پاکستان ویمنز ٹیم نے ہانگ کانگ کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

ویمنز ایشیا کپ میں پاکستان ویمنز نے ہانگ کانگ ویمنز کو 72 رنز سے ہراکر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *