پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور جارحیت کو روکنے کے لیے ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بات العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور نئے معاہدے نے ان تعلقات کو باضابطہ شکل دی ہے۔
ان کے مطابق معاہدے میں کوئی جارحانہ یا مداخلت پسند عنصر نہیں بلکہ یہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ’اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو گا؟‘
اس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’دفاعی وعدوں سے متعلق آپریشنل تفصیلات کبھی عوامی سطح پر نہیں بتائی جاتیں۔
’بہت سے ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے ہوتے ہیں لیکن کوئی ریاست ان کے نفاذ کی عملی تفصیلات ظاہر نہیں کرتی۔ یہ معاملات آپریشنل سکیورٹی اور خفیہ معلومات کے دائرے میں آتے ہیں۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ یہ معاہدہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا متبادل یا حریف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ پاکستان کے چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کی تکمیل کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسی معاہدے کے حوالے سے مزید کہا کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی معاہدہ ’مسلم اتحاد‘ نہیں ہے۔
ان کے مطابق معاہدے کا مقصد علاقائی استحکام، سلامتی اور عدم جارحیت ہے۔
ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں کسی نئے ملک کی شمولیت کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سات اگست کو ایک دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جسے ’مکہ معاہدے‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس معاہدے کے بارے میں تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی حملہ تینوں پر تصور ہو گا۔
THE PUBLIC POST