جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پرعوام کو اتنا تو ریلیف نہیں دیا جتنے کے اشتہارات چلوا دیے، قوم کو ریلیف کی بھیک نہیں بلکہ اپنا حق چاہیے، دو روز کے بعد اسلام آباد مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی، آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس دھرنے کے 31ویں روز کراچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں 41 مقامات پر دھرنے دیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم اور حلقہ خواتین کو تاریخی جلسے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنا 29 روز کا ریکارڈ توڑ دیا، ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اسلام آباد مارچ کی تیاری ہورہی ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پرسوں اسلام آباد مارچ کا لائحہ عمل بتایا جائے گا جبکہ آج جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات ہوئی اور ہم نے پیٹرول ، آئی پی پیز سے متعلقات تمام حجت پوری کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں ٹال مٹول سے کام لیا اور کوئی فیصلہ نہیں کیا تو یہ آخری مذاکرات ہوں گے،حکومت ایک جانب بات چیت جاری ہے تو دوسری جانب رات کو پیٹرول بم بھی گرائے جاتے ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ روزانہ پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھانے کا طریقہ کار کو ختم کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے 25 کروڑ عوام اذیت کا شکار ہیں، جب موجودہ حکومت اپوزیشن میں تھی تو کہتی تھی کہ رات کو پیٹرول بم پھینکا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کا عوام کو پیٹرول پر دیا گیا ریلیف پکیج دھوکا ہے اور 25 ارب روپے اونٹ کے منھ میں زیرہ ہے، یہ خیرات پاکستانی قوم کو نہیں چاہیئے ، قوم کو حق چاہییے، قوم کا حق یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی بھتہ ختم کیا جائے ، فی لیٹر پیٹرول میں 135 روپے سے زیادہ ٹیکس ہے۔
THE PUBLIC POST