کراچی میں سائبر فراڈ کا ایک نیا اور خطرناک طریقہ بے نقاب ہوا ہے جہاں نوسربازوں نے سیلیکون سے تیار کردہ مصنوعی انگوٹھے استعمال کر کے شہریوں کے نام پر ڈپلیکیٹ سم کارڈز جاری کروانے اور مالی اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق طارق نواز، ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی نے انکشاف کیا کہ کراچی کے رہائشی فرحان نامی شہری کا موبائل نیٹ ورک اچانک بند ہوگیا۔ ابتدائی طور پر معاملہ تکنیکی خرابی سمجھا گیا، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ ان کے نام پر ایک دوسری سم جاری کی جا چکی تھی۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ ملزمان نے بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کو دھوکہ دینے کے لیے سیلیکون کا مصنوعی انگوٹھا استعمال کیا۔ اسی جعلی تصدیق کے ذریعے ڈپلیکیٹ سم حاصل کی گئی اور پھر اس سم کی مدد سے شہری کے مالی اکاؤنٹس فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔
حکام کے مطابق شکایت موصول ہوتے ہی این سی سی آئی اے نے فوری مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کی اور ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ کسی منظم گروہ کی کارروائی ہو سکتی ہے جو بائیومیٹرک نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری کا موبائل نیٹ ورک اچانک بند ہو جائے یا سم غیر فعال ہو جائے تو فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی اور سائبر کرائم حکام سے رابطہ کیا جائے، کیونکہ یہ سم سواپ فراڈ کی علامت ہو سکتی ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی شناختی دستاویزات کی نقول غیر ضروری طور پر شیئر نہ کریں اور بائیومیٹرک تصدیق کے دوران مکمل احتیاط برتیں۔ یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے نت نئے طریقوں سے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مؤثر نگرانی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔
THE PUBLIC POST