امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ ممکنہ طور پر جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد منگل کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی ہوئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ کروڈ کی قیمت 4.2 فیصد کمی کے بعد 94.79 ڈالر فی بیرل تک آگئی جب کہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) 4 فیصد کمی کے بعد 90.96 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔
ابتدائی ٹریڈنگ میں دونوں میں تقریباً 11 فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی۔
پیر کو تیل کی قیمتیں ریکارڈ بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں اور 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں۔ تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد مارکیٹ میں خدشات کم ہوئے اور قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے۔
امریکا کی جانب سے روس پر عائد تیل کی پابندیاں نرم کرنے اور ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے پر غور کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس کا مقصد عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حالات کے باعث تیل کی قیمتوں میں آنے والے دنوں میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
روسی صدر سے گفتگو کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا تیل کی قلت کم کرنے کے لیے بعض ممالک پر عائد تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی تو امریکا ایران پر 20 گنا شدت سے مزید سخت حملہ کرے گا۔
THE PUBLIC POST