ٹیکس چوری کا بڑا کیس: رائل ٹیکسٹائل کے مالک سمیت تین کلیئرنگ ایجنٹس کے کردار کی تحقیقات تیز

کمپنی مالک محمد اسماعیل ، کلیئرنگ ایجنٹس نجمی زرغم (ایم/ایس جنید قمر انٹرپرائزز)، ہاؤس آف ٹریڈ اور عبدالواحد (ایم/ایس ایس ایس ایس انٹرپرائزز) پرٹیکس چوری، جعلی دستاویزات اور ریکارڈ چھپانے کے الزامات،مبینہ ملی بھگت سامنے آنے پران لینڈ ریونیو کے ذمے دار افسران بھی شامل تفتیش ،کسٹمز حکام نے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل تیز کر دیا

کراچی (رپورٹ : عمران خان ) ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اینڈ انٹرنل آڈٹ (ساؤتھ) نے ٹیکس چوری کے ایک بڑے کیس میں ایم/ایس رائل ٹیکسٹائل کے مالک محمد اسماعیل کے خلاف 25 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد کے مبینہ ٹیکس فراڈ پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق کمپنی نے خود کو جعلی طور پر مینوفیکچرنگ یونٹ ظاہر کر کے درآمدات پر غیر قانونی ٹیکس چھوٹ حاصل کی۔

ایف آئی آر 27 فروری 2026 کو درج کی گئی، جو ڈائریکٹر جنرل یعقوب ماکو کی ہدایت پر شروع کی جانے والی تیز رفتار آڈٹ کارروائی کے بعد سامنے آئی۔ تحقیقات ایک خصوصی آڈٹ ٹیم نے کی جس میں ڈائریکٹر افضل وٹو، ڈپٹی ڈائریکٹر توصیف گورچانی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شکیل احمد شامل تھے۔

شکایت کے مطابق کمپنی نے دسمبر 2022 سے 2025 کے دوران 125 گڈز ڈیکلریشنز کے ذریعے تقریباً 2 ارب 55 کروڑ روپے مالیت کی درآمدات کیں۔ ان درآمدات پر کمپنی نے اضافی سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ انکم ٹیکس میں وہ رعایتیں حاصل کیں جو صرف رجسٹرڈ مینوفیکچرنگ یونٹس کو دی جاتی ہیں۔

تحقیقات کے دوران کسٹمز کی فزیکل ویریفکیشن ٹیم نے 4 ستمبر 2025 کو کمپنی کے رجسٹرڈ پتے بنگال گودام ہاؤس، ہیرس روڈ کھارادر کا دورہ کیا۔ ٹیم کو وہاں کسی قسم کی صنعتی مشینری یا مینوفیکچرنگ سہولت موجود نہیں ملی۔

موقع پر موجود عملے کے افراد، جن میں وارس خان اور جنید الرحمن شامل تھے، نے تصدیق کی کہ مذکورہ مقام صرف درآمد شدہ کپڑے ذخیرہ کرنے کے لیے گودام کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور کمپنی کی کوئی فیکٹری یا مینوفیکچرنگ یونٹ موجود نہیں۔

معائنے کے دوران گودام میں 3 لاکھ 25 ہزار کلوگرام سے زائد مختلف اقسام کے کپڑے موجود پائے گئے جن میں نیٹ فیبرک، پالئیسٹر پائل فیبرک اور کوٹڈ فیبرک شامل تھے، تاہم کسی قسم کی صنعتی مشینری یا پیداواری آلات نہیں ملے۔

کسٹمز حکام کے مطابق کمپنی نے رجسٹریشن کے وقت سے ہی خود کو مینوفیکچرر ظاہر کر کے ٹیکس مراعات حاصل کیں۔ تحقیقات کے مطابق مجموعی ٹیکس چوری میں 8 کروڑ 71 لاکھ روپے اضافی سیلز ٹیکس جبکہ 16 کروڑ 93 لاکھ روپے ودہولڈنگ انکم ٹیکس شامل ہیں۔

حکام کے مطابق آڈٹ ٹیم نے کمپنی کو 12 ستمبر 2025، 4 نومبر 2025 اور 2 فروری 2026 کو نوٹس جاری کر کے وضاحت اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔ کمپنی نے 24 ستمبر 2025 کو اپنے وکیل کے ذریعے جواب جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ان لینڈ ریونیو حکام کی جانب سے معائنے کے بعد مینوفیکچرنگ اسٹیٹس دیا گیا تھا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

مقدممہ کے اندراج کے بعد کسٹمز حکام نے مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں اور ٹیکس چوری کے ایک کیس میں تین کلیئرنگ ایجنٹس کے کردار کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق جن کلیئرنگ ایجنٹس نے گڈز ڈیکلریشن (GD) کی پروسیسنگ میں کردار ادا کیا ان میں نجمی زرغم (ایم/ایس جنید قمر انٹرپرائزز)، ہاؤس آف ٹریڈ اور عبدالواحد (ایم/ایس ایس ایس ایس انٹرپرائزز) شامل ہیں۔

کسٹمز حکام کے مطابق ان افراد کے کردار کی تحقیقات کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 209 بمعہ دفعہ 32 اے کے تحت جاری ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ان کلیئرنگ ایجنٹس نے مبینہ طور پر ایسے تجارتی دستاویزات اور گڈز ڈیکلریشنز کی پروسیسنگ میں کردار ادا کیا جن کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مقدمے میں کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 26، 26 اے، 32، 32 اے، 155 ایل، 155 ایم اور 209 کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متعلقہ شقوں کو بھی لاگو کیا گیا ہے۔ ان قوانین کے تحت جرائم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 156(1) اور سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 33(5) کے تحت سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کسٹمز ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ماکو، جو اسمگلنگ اور مالیاتی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت مؤقف رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں، کو ایس آر او 1655(I)/2025 کے تحت وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ ان اختیارات کے تحت وہ مالیاتی فراڈ اور ٹیکس چوری کے کیسز میں بغیر وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اینالیٹکس سسٹم قائم کر کے تحقیقات کو مؤثر بنانے کے مجاز ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور جرائم کے ارتکاب میں شامل دیگر پہلوؤں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تفتیش کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان کو کسٹمز اور ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس چوری، حقائق چھپانے اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Check Also

کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں جدید لائبریری کا افتتاح

کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی میں جدید سہولیات سے آراستہ نئی لائبریری کا افتتاح کردیا گیا۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *