رپورٹ : عمران خان
اسلام آباد :
(اسٹاف رپورٹر) اایف بی آر نے طویل عرصے تک غیر حاضری، ٹرانسفر آرڈر نظر انداز کرنے اور محکمانہ احکامات نہ ماننے پر کسٹمز انسپکٹر قادر خان کو ملازمت سے برخاست کردیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ افسر 27 فروری 2023 سے مسلسل ڈیوٹی سے غائب تھے جبکہ بارہا طلبی اور شوکاز نوٹس کے باوجود انہوں نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
ذرائع کے مطابق قادر خان، کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ ملتان میں بطور انسپکٹر تعینات تھے۔ ایف بی آر نے سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کے تحت ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کیا۔ افسر نے تحریری جواب میں الزامات کی تردید کی اور ذاتی سماعت کی درخواست کی، تاہم مقررہ تاریخ پر وہ نہ خود پیش ہوئے اور نہ ہی ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شریک ہوئے۔
محکمانہ نمائندے نے حکام کو بتایا کہ مذکورہ افسر تاحال ڈیوٹی پر واپس نہیں آئے جبکہ یکم نومبر 2023 سے ان کی تنخواہ اور دیگر مراعات بھی بند کی جاچکی ہیں۔ ایف بی آر حکام کے مطابق دورانِ غیر حاضری افسر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ اور بعد ازاں رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواستیں بھی دیں، تاہم قواعد و ضوابط پورے نہ ہونے کے باعث ان درخواستوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق افسر کو 8 نومبر 2024 کو نئی تعیناتی پر رپورٹ کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا مگر انہوں نے ٹرانسفر آرڈر پر بھی عمل نہیں کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نجی ڈاکٹر کے چند میڈیکل نسخے جمع کرائے جن میں آٹھ ماہ آرام کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن حکام نے انہیں غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ دستاویزات تین سالہ غیر حاضری کا جواز فراہم نہیں کرتیں۔
ایف بی آر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بروقت درخواست کے بغیر میڈیکل گراؤنڈ پر چھٹی منظور نہیں ہوسکتی۔ حکام کے مطابق تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ افسر سرکاری ملازمت جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اسی لیے ان پر بڑی سزا عائد کرتے ہوئے “ڈسمسل فرام سروس” کا حکم جاری کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قادر خان کی 27 فروری 2023 سے اب تک کی غیر حاضری کو بغیر تنخواہ غیر معمولی رخصت تصور کیا جائے گا جبکہ انہیں 30 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔
THE PUBLIC POST