رپورٹ: عمران خان
لاہور: وفاقی حکومت نے کسٹمز گودام کی چابیوں سمیت مبینہ طور پر غیر حاضر رہنے والی خاتون کسٹمز افسر کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کر کے باضابطہ محکمانہ انکوائری شروع کردی ہے، جبکہ کروڑوں روپے مالیت کے ضبط شدہ اور ممنوعہ سامان میں ردوبدل اور سامان غائب ہونے کے الزامات نے بھی کسٹمز حکام میں کھلبلی مچا دی ہے۔
اس حوالے سے ایف بی آر ہیڈکوارٹر اسلام آباد کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن نمبر 0914-C-III/2026 میں کہا گیا ہے کہ مس زوبیہ اختر، پریونٹو آفیسر (BS-16)، کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ لاہور کو سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے رول 5(1) کے تحت فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق خاتون افسر کو محکمانہ کارروائی مکمل ہونے تک معطل رکھا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کو باضابطہ طور پر پاکستان گزٹ میں بھی شائع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایف بی آر ذرائع نے روزنامہ امت کو بتایا ہے کہ زوبیہ اختر کے پاس لاہور کسٹمز کے اس حساس ویئر ہاؤس کی ذمہ داری تھی جہاں اربوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ، نان کسٹم پیڈ اور ممنوعہ سامان رکھا گیا تھا۔ اس گودام میں ضبط شدہ اشیاء میں قیمتی غیر ملکی سگریٹ، شراب، چھالیہ، اجینو موتو، الیکٹرانکس اور دیگر ممنوعہ اشیاء شامل تھیں۔ ذرائع کے مطابق خاتون افسر کئی روز تک مبینہ طور پر چابیوں سمیت غیر حاضر رہیں جس کے بعد معاملہ اعلیٰ حکام تک پہنچا۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ اسی ویئر ہاؤس میں رکھے گئے سامان میں مبینہ کمی اور ردوبدل کے حوالے سے بھی خفیہ تحقیقات جاری ہیں۔ بعض افسران کو شبہ ہے کہ گودام میں موجود قیمتی سامان کا ایک حصہ مبینہ طور پر مارکیٹ میں فروخت کیا گیا۔
ایف بی آر کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ امت کو بتایا کہ “یہ صرف ایک افسر کی غفلت کا معاملہ نہیں بلکہ کسٹمز ویئر ہاؤسز میں موجود ضبط شدہ سامان کے پورے نظام پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ملک بھر میں ضبط شدہ سامان کی نگرانی کا مؤثر میکنزم نہ ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر کرپشن کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔”
ذرائع کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران کراچی، کوئٹہ، پشاور اور دیگر شہروں میں قائم کسٹمز و ایف بی آر گوداموں سے کروڑوں روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان غائب ہونے کے کئی اسکینڈلز سامنے آچکے ہیں، تاہم بیشتر مقدمات میں تحقیقات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں۔
کسٹمز کے ایک سابق افسر نے دعویٰ کیا کہ بعض اوقات ضبط شدہ سامان کو تلف کرنے کی تقریبات محض “کاغذی کارروائی” ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ریکارڈ میں بڑی مقدار ظاہر کی جاتی ہے مگر عملی طور پر کم مقدار تلف کی جاتی ہے جبکہ قیمتی سامان پہلے ہی مبینہ طور پر مارکیٹ میں فروخت ہوچکا ہوتا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ضبط شدہ سامان کی غیر قانونی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم مبینہ طور پر ماتحت دفاتر سے لے کر اعلیٰ افسران تک تقسیم ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ یہ سامان خریدنے والے مخصوص تاجر بعد ازاں مارکیٹ میں فروخت کرکے کروڑوں روپے منافع کماتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور ویئر ہاؤس اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے اور بعض دیگر افسران کو بھی شاملِ تفتیش کیا جاسکتا ہے۔ ایف بی آر حکام نے اندرونی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے اور ویئر ہاؤسز کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ بڑھانے پر بھی غور شروع کردیا ہے۔
THE PUBLIC POST