‘دنیا بھر میں ڈیزل ریکارڈ سستا ہوگا’ٹرمپ نے روس سے معاہدہ کر لیا

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر پابندیاں لگانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوہرا معیار اپناتے ہوئے خود روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ روس عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی بڑھانے پر رضامند ہو گیا ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ نے روسی ڈیزل کی درآمد پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے 7 اپریل تک اس کی اجازت دے دی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ان کی ‘انتہائی کامیاب’ گفتگو ہوئی، جس میں روس کی جانب سے فوری طور پر 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ مقدار تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل کے برابر ہے۔

ٹرمپ کے مطابق روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید سپلائی کا انحصار روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتِ حال پر ہوگا، جنہیں یوکرین کے حملوں میں نقصان پہنچا ہے۔

پیوٹن کو تحفے دینے سے کچھ نہیں ہوگا، یوکرینی صدر
امریکہ نے اکتوبر 2025 میں یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث روسی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی آمدن محدود کرنا تھا، تاہم ڈیزل کی برآمد سے ماسکو کو اربوں ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘مضبوط اتحادیوں کا کمزور فیصلہ’ قرار دیا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب یوکرینی وفد جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی غرض سے امریکہ میں موجود تھا۔

زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پیوٹن کو تحفے دینے سے امن قائم نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ‘مہذب دنیا’ کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ان کے بقول روس ڈیزل کے بدلے مزید دہشت گردی اور دھوکا دہی کرے گا۔

امریکی رکنِ کانگریس اور ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈان بیکن نے بھی فیصلے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس پر مزید پابندیاں نافذ کرنے کا وقت ہے، نہ کہ پابندیاں نرم کرکے پیوٹن کو مزید رقم فراہم کی جائے۔

الیکشن اور مہنگے ڈیزل کا دباؤ
ڈیزل کی قیمتیں امریکہ میں ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس سے 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل ٹرمپ کی جماعت کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈیزل زراعت، گھروں کو گرم رکھنے اور مال برداری کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ اس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

امریکی موٹرنگ تنظیم اے اے اے کے مطابق جمعرات کو ملک میں ڈیزل کی اوسط قیمت 6.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

معاہدے کے اعلان کے بعد امریکی ڈیزل فیوچرز کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی اور یہ 4.64 ڈالر فی گیلن پر آ گئی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس سے اضافی ڈیزل کی فراہمی قیمتوں میں دیرپا کمی کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ آئل مارکیٹ کے محقق روری جانسٹن نے معاہدے کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب روس کی ریفائنریوں پر حملے نہیں ہو رہے ہوتے تو وہ اس معاہدے میں طے شدہ مقدار سے کہیں زیادہ ڈیزل برآمد کرتا ہے۔

مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی کے تجزیہ کار جم مچل کے مطابق یہ معاہدہ قیمتوں کا مسئلہ حل نہیں کرے گا، البتہ ڈیزل کی پہلے ہی محدود عالمی رسد میں اضافی سپلائی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل اتحادی ممالک پر ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال چکے ہیں اور زرعی مشینری میں استعمال ہونے والے ٹیکس سے مستثنیٰ سرخ رنگ کے ڈیزل تک رسائی بھی بڑھا چکے ہیں۔

Check Also

امریکا:تین سالہ بچے نےکتاب شائع کرکے عالمی ریکارڈ قائم کرلیا

امریکا میں بھارتی نژاد 3 سالہ بچے ادوے جین نے کتاب شائع کرکے گنیز ورلڈ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *