صحرائے تھر 200 کے قریب افراد کو سانپوں نے ڈس لیا

صحرائے تھر میں بارشوں کے بعد سانپ بلوں سے باہر آ گئے۔

محکمہ صحت کے مطابق تھرپارکر میں رواں ماہ کے دوران 200 کے قریب افراد کو سانپوں نے ڈس لیا جنہیں علاج کے لیے اسپتالوں میں لایا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق سانپ کے زہر کو ذائل کرنے کے لیے اینٹی اسنیک وینم انجیکشن استعمال کیا گیا، جو ایک مریض پر کم سے کم 7 سے 10 کی تعداد میں استعمال کی جاتی ہے۔

صحرائے تھر کے جنگلات میں سانپوں کی 10 سے زائد اقسام موجود ہیں، جن میں نیورو ٹاکسک اور مسکولو ٹاکسک سب سے خطرناک ہیں۔

بارشوں کے بعد سانپوں کی افزائش کے دن ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بلوں سے باہر آنے کے ساتھ ساتھ اپنا زہر بھی جسم سے خارج کرنا ہوتا ہے۔

قدرتی طور پر سانپوں کی افزائش کا یہ مرحلہ ہر جاندار کے لیے خطرہ کا باعث بنتا ہے۔

Check Also

بلوچستان؛ ٹماٹروں سے لدے مزدا ٹرک سے 11کروڑ مالیت کی کرسٹل آئس برآمد

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے کولپور میں کسٹم انفورسمنٹ یونٹ نے کارروائی کرتے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *