ئکراچی(پبلک پوسٹ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں شکست کے بعد شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کی پچ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بین الاقوامی کرکٹ کے لیے ناقابل قبول قرار دے دیا۔
گزشتہ روز پہلے ٹی 20 میچ میں پاکستانی ٹیم 19.3 اوورز میں صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی اور کھلاڑی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہے۔
پاکستانی ٹیم ابتدا ہی میں مشکلات کا شکار ہوگئی اور آٹھویں اوور میں اس کا اسکور 5 وکٹوں پر 46 رنز تھا۔ بیٹرز کی جانب سے غیر ضروری بڑے شاٹس کھیلنے کی کوشش اور تین رن آؤٹس نے حالات مزید بگاڑ دیے۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ہیسن نے تسلیم کیا کہ ان کے بیٹرز نے پچ کو غلط انداز میں پرکھا تاہم انہوں نے اس کی بین الاقوامی معیار سے کم تر حالت پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ یہ پچ کسی کے لیے بھی موزوں ہے۔ ٹیمیں ایشیا کپ یا ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاری کر رہی ہیں، ایسے میں اس سطح کی پچ ناقابل قبول ہے۔
ہیسن نے مزید کہا کہ فخر زمان نے کچھ جارحانہ شارٹس کھیلے جس سے ہمیں غلط تاثر ملا کہ پچ کیسی کھیل رہی ہے۔ درمیانے اوورز میں ناقص شاٹ سلیکشن نے ہمیں نقصان پہنچایا۔ گیند جب سیم اور باؤنس کرنے لگی تو ہم خطرے کا اندازہ نہ لگا سکے۔
دوسری جانب بنگلا دیشی اوپنر پرویز حسین ایمان نے مائیک ہیسن کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو پچ خراب محسوس نہیں ہوئی کیونکہ ہم نے ہدف 16 اوورز سے بھی کم وقت میں حاصل کرلیا۔ اگر ہم 20 اوورز کھیلتے تو 150-160 رنز آسانی سے بن سکتے تھے۔ ہم نے حالات کا بہتر اندازہ لگایا۔
مائیک ہیسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس قسم کی پچز پر کھیلنے سے نہ صرف ٹیموں کی تیاری متاثر ہوتی ہے بلکہ کھلاڑیوں کی تکنیکی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ میزبان بنگلہ دیش تین میچوں کی سیریز میں 0-1 سے برتری حاصل کرچکا ہے جبکہ دوسرا ٹی 20 منگل کو اسی مقام پر کھیلا جائے گا۔