شدید گرمی کے موسم میں محسوس ہونے والی غیر معمولی مسلسل تھکن کو اکثر لوگ ہیٹ اسٹروک سمجھ لیتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی صورتوں میں اس کی اصل وجہ ہیٹ فیور (گرمی کا بخار) بھی ہو سکتی ہے جو جسم پر گرمی کے دباؤ اور پانی کی کمی کے باعث ہوتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی تازہ عالمی موسمیاتی رپورٹ 2025ء کے مطابق گزشتہ گیارہ سال تاریخ کے گرم ترین سال رہے جبکہ سال 2025ء معمول کے درجۂ حرارت سے تقریباً 1.43 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درجۂ حرارت میں معمولی اضافہ بھی انسانی صحت پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
ہیٹ فیور کیا ہے؟
کیا کمر درد کی اصل وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف
ہیٹ فیور اس وقت ہوتا ہے جب جسم کا درجۂ حرارت گرمی اور پانی کی شدید کمی کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے اور جسم کا درجۂ حرارت قابو میں رکھنے والا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا نارمل درجۂ حرارت تقریباً 38 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، انسانی جسم دھوپ میں طویل وقت گزارنے اور پانی کم پینے کے سبب ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب ہو سکتی ہے، کمزوری، چکر اور بے ہوشی جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ہیٹ فیور کی عام علامات کیا ہیں؟
ہیٹ فیور کی عام علامات میں جِلد کا سرخ ہونا، ہلکا بخار، شدید پیاس اور پانی کی کمی اور مسلسل تھکن شامل ہے۔
ہیٹ فیور اور ہیٹ اسٹروک میں فرق
ماہرین کے مطابق دونوں حالتیں گرمی سے پیدا ہوتی ہیں لیکن شدت میں واضح فرق ہے۔
ہیٹ اسٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے جس میں جسمانی درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دماغی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے اور فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
ہیٹ فیور نسبتاً کم شدت کی حالت کا نام ہے، یہ زیادہ تر پانی کی کمی اور مسلسل گرمی سے ہوتا ہے، بروقت پانی اور نمکیات لینے سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2022 کے درمیان صرف ہیٹ اسٹروک سے 1634 اموات رپورٹ ہوئیں جو اس مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتی ہیں۔
گرمی میں تھکن کیوں ہوتی ہے؟
ماہرینِ فزیالوجی کے مطابق جسم کو درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے، پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی اعصابی نظام پر دباؤ ڈالتی ہے، اسی وجہ سے انسان شدید تھکن اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔
بچاؤ کے اہم طریقے
ماہرین نے عوام کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی ہے:
دوپہر کے وقت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
پانی، جوس اور نمکیات والی مشروبات کا زیادہ استعمال کریں۔
سوتی اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔
سایہ دار جگہوں پر رہیں۔
موسمی پھل اور پانی والی غذاؤں کا زیادہ استعمال کریں۔
بخار یا چکر کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ماہرین کی وارننگ
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے جس سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں، ہیٹ فیور اور ہیٹ اسٹروک دونوں کو معمولی نہ سمجھا جائے، دونوں صورتوں میں بروقت احتیاط ہی جان بچا سکتی ہے۔
THE PUBLIC POST