خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے اپنے لباس پر ہونے والی تنقید اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کے حوالے سے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے کردار کشی اور منظم ہراسانی مہم قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض تنقید یا لباس پر رائے نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تصویر ہے جو ان کی اجازت کے بغیر “پرائیویٹ اینگل” سے لی گئی، جسے بعد میں تبدیل کر کے منفی انداز میں پیش کیا گیا اور اسے ایک منظم مہم کا حصہ بنا دیا گیا۔
غریدہ فاروقی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ یہ ان کے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا، بلکہ وہ 2011 سے مسلسل اس طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں اور اس کے خلاف مزاحمت کرتی آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مہمات نہ صرف انفرادی طور پر تکلیف دہ ہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی خواتین کے لیے خوف اور عدم تحفظ کا باعث بھی بنتی ہیں۔
THE PUBLIC POST