کراچی میں چھالیہ اسمگلنگ کا جال اربوں کی غیر قانونی معیشت، کمزور نگرانی، صحت کیلئے خاموش خطرہ

کراچی ( رپورٹ: عمران خان)
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جہاں ملکی معیشت کی بنیادیں قائم ہیں، وہیں ایک خاموش مگر نہایت منظم غیر قانونی کاروبار بھی پنپ رہا ہے

—چھالیہ (Betel Nut) کی اسمگلنگ۔ بظاہر ایک عام سی چیز دکھائی دینے والی یہ شے درحقیقت اربوں روپے کے غیر قانونی دھندے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ اب یہ عوامی صحت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں پیش آنے والے واقعات نے اس نیٹ ورک کی سنگینی کو واضح کر دیا۔

اپریل 2026 میں گلشنِ معمار کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب مبینہ اسمگلرز کی گاڑی نے چیکنگ کے دوران ایک پولیس اہلکار کو کچل دیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسمگلرز نہ صرف منظم ہیں بلکہ خطرناک حد تک بے خوف بھی ہو چکے ہیں۔ اسی دوران سپر ہائی وے، منگھوپیر اور سچل کے علاقوں میں متعدد کارروائیوں کے دوران چھالیہ سے بھری گاڑیاں پکڑی گئیں، جن میں رکشوں سے لے کر فیملی کاروں تک مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے تھے۔
اگرچہ میڈیا میں صرف چند نمایاں کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم کسٹمز اور دیگر اداروں کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصل صورتحال کہیں زیادہ وسیع ہے۔ مارچ 2026 کے دوران درجنوں اینٹی اسمگلنگ آپریشنز کیے گئے جن میں مختلف نان کسٹم پیڈ اشیاء کے ساتھ چھالیہ بھی برآمد ہوئی، مگر اس کا الگ ڈیٹا اکثر سامنے نہیں آتا۔ ماہرین کے مطابق کراچی میں چھالیہ اسمگلنگ کے اصل کیسز کی تعداد میڈیا رپورٹس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چھالیہ اسمگلنگ کا بڑا حصہ بلوچستان کے راستے کراچی پہنچتا ہے، جہاں سے یہ سامان ایران یا دیگر سرحدی علاقوں سے غیر قانونی طور پر داخل ہوتا ہے۔ سپر ہائی وے، منگھوپیر روڈ، گلشنِ معمار اور حب ریور روڈ اس نیٹ ورک کی اہم گزرگاہیں بن چکی ہیں، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر سامان شہر میں داخل ہوتا ہے۔
اسمگلرز کے طریقہ واردات بھی وقت کے ساتھ بدل چکے ہیں۔ جعلی نمبر پلیٹس، فیملی گاڑیوں کا استعمال، رکشوں کے ذریعے ترسیل، اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے چیکنگ کی معلومات کا تبادلہ اب عام ہو چکا ہے۔ بعض اوقات پولیس کی جانب سے روکنے پر یہ عناصر مزاحمت کرتے ہیں اور تصادم سے بھی گریز نہیں کرتے، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔
لیکن اس کہانی کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو شاید سب سے زیادہ تشویشناک ہے—اور وہ ہے انسانی صحت پر اس کے اثرات۔
ماہرین صحت کے مطابق اسمگل شدہ چھالیہ میں اکثر افلاٹاکسن (Aflatoxin) نامی زہریلی پھپھوندی کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ یہ زہریلا مادہ عام طور پر ناقص اسٹوریج، نمی اور غیر معیاری پراسیسنگ کے باعث پیدا ہوتا ہے، اور انسانی جسم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ اسمگل شدہ چھالیہ کسی بھی قسم کے معیار یا فوڈ سیفٹی چیک سے نہیں گزرتی، اس لیے اس میں افلاٹاکسن کی موجودگی کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
یہی چھالیہ بعد میں مختلف شکلوں میں مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہے، جن میں خاص طور پر میٹھی چھالیہ (سوئٹ سپاری)، گٹکا اور ماوا شامل ہیں۔ نوجوانوں اور کم عمر افراد میں ان مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ان اشیاء کا مسلسل استعمال نہ صرف دانتوں اور مسوڑھوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ منہ کے کینسر (Oral Cancer)، گلے کے امراض اور نظامِ ہاضمہ کی خرابیوں کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی منہ کے کینسر کے کیسز کی شرح تشویشناک حد تک بلند ہے، اور اس میں چھالیہ اور اس سے بنی مصنوعات کا کردار واضح طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں غیر معیاری اور اسمگل شدہ چھالیہ کا استعمال اس خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افلاٹاکسن نہ صرف کینسر بلکہ جگر کی بیماریوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا بھی سبب بن سکتا ہے، جو طویل المدتی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
دوسری جانب اس غیر قانونی کاروبار کا معاشی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ حکومت کو ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ قانونی کاروبار کرنے والے تاجروں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اسمگل شدہ سامان سستا ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں آسانی سے جگہ بنا لیتا ہے، جس سے قانونی درآمد کنندگان کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف کارروائیاں جاری ہیں، تو دوسری جانب وسائل کی کمی، ٹیکنالوجی کا فقدان اور بعض عناصر کی مبینہ ملی بھگت جیسے عوامل اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ قانونی نظام کی کمزوریاں بھی اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، جہاں گرفتار ملزمان اکثر ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں اور مقدمات طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف سرحدی نگرانی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک جامع حکمت عملی کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں فوڈ سیفٹی چیک کو سخت بنانا، مارکیٹ میں فروخت ہونے والی چھالیہ اور اس سے بنی مصنوعات کی باقاعدہ جانچ، اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا شامل ہے تاکہ لوگ اس کے نقصانات سے باخبر ہو سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی میں چھالیہ اسمگلنگ اب صرف ایک معاشی یا قانونی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک سنگین صحت کا بحران بھی بنتا جا رہا ہے۔ جب تک اس کے تمام پہلوؤں—اسمگلنگ، فروخت اور استعمال—کو بیک وقت نشانہ نہیں بنایا جاتا، تب تک یہ مسئلہ نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
گلشنِ معمار کا واقعہ ایک وارننگ ہے، مگر شاید اس سے بھی بڑی وارننگ وہ خاموش بیماری ہے جو ہر روز ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

Check Also

شاہدہ مرتضیٰ اعلیٰ تعلیم یافتہ،باوقار، پرکشش ایکٹرس

کراچی (رپورٹ، وسیم علی خان) شاہدہ مرتضیٰ کا شمار پاکستان ٹیلی ویژن اور اسٹیج کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *