جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں تقریباً پونے تین کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں، مگر حکومت اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جبکہ نمائشی اقدامات کے ذریعے سستی مقبولیت حاصل کی جا رہی ہے۔
لاہور میں جماعت اسلامی کی رکنیت مہم کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں 50 لاکھ نئے اراکین شامل کیے جائیں گے، اور نوجوانوں کو گھر گھر رابطہ مہم کے لیے متحرک کیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت پنجاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو گندم کی مقررہ قیمت بھی میسر نہیں، جبکہ حکومتی توجہ عوامی فلاح کے بجائے تشہیری مہمات پر مرکوز ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے نظرانداز ہو رہے ہیں، جبکہ وسائل کا بڑا حصہ مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچانے پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ٹیکس نظام، توانائی شعبے اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے، جبکہ حکمران طبقہ مراعات سے مستفید ہو رہا ہے، اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد نہ ہونا بھی جمہوری عمل پر سوالیہ نشان ہے۔
THE PUBLIC POST