یورپی پارلیمنٹ کا اہم فیصلہ،مرد و خواتین کے تعلق کی وضاحت کر دی گئی

یورپی پارلیمنٹ نے مرد و عورت کے درمیان جنسی رضامندی کی ایک واضح اور قانونی تعریف کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد یورپی یونین بھر میں عصمت دری سے متعلق قوانین کو یکساں بنانا ہے۔

اسٹراسبرگ میں ہونے والے اجلاس میں منظور شدہ تجویز کے مطابق جنسی تعلق صرف اسی صورت میں قانونی تصور ہوگا جب رضامندی آزادانہ، باخبر اور کسی بھی وقت واپس لی جا سکنے والی ہو۔ پارلیمنٹ کے مطابق رضامندی کی عدم موجودگی، خاموشی یا مزاحمت نہ کرنا ہرگز اجازت تصور نہیں کی جائے گی، اور ایسے تمام معاملات کو زیادتی یا عصمت دری کے زمرے میں لایا جائے گا۔

ووٹنگ کے دوران 447 ارکان نے اس تجویز کے حق میں، 160 نے مخالفت میں جبکہ 43 نے حصہ نہیں لیا۔

ارکانِ پارلیمنٹ نے زور دیا کہ رکن ممالک کو اپنے قوانین کو بین الاقوامی معیار، بشمول استنبول کنونشن، کے مطابق ڈھالنا چاہیے تاکہ متاثرین کو بہتر تحفظ اور معاونت فراہم کی جا سکے۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ خوف، دباؤ، نشہ، بے ہوشی یا کسی بھی قسم کی جسمانی و ذہنی کمزوری کی حالت میں دی گئی رضامندی کو قانونی رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

سول لبرٹیز کمیٹی کی نمائندہ ایون انسر نے کہا کہ یورپی یونین میں خواتین کو “واضح رضامندی” کے اصول کے تحت مکمل تحفظ ملنا چاہیے، جبکہ خواتین کے حقوق کمیٹی کی نمائندہ جوانا شیورنگ ویلگس نے کہا کہ یورپ میں ہر تین میں سے ایک خاتون صنفی تشدد کا شکار ہوتی ہے، اس لیے مشترکہ اور سخت قانون سازی ناگزیر ہے۔

مزید بتایا گیا کہ فرانس، فن لینڈ، لکسمبرگ اور نیدرلینڈز پہلے ہی رضامندی پر مبنی قوانین نافذ کر چکے ہیں، اور اب یورپی سطح پر یکساں قانون سازی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

Check Also

حکومت کا پاکستان تاجکستان ٹرانزٹ اور علاقائی روابط بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مشترکہ اقتصادی کمیشن کو مؤثر بنانے، قریبی روابط بڑھانے اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *