سسرال سے پُراسرار طور پر لاپتا خاتون کی بیڑیاں لگی حبس بیجا میں رکھے جانے کی ویڈیو سامنے آگئی

راولپنڈی: سسرال سے پراسرار طور پر لاپتا ہونے والی خاتون کی حبس بیجا میں رکھے جانے کی ویڈیو سامنے آ گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خاتون کی حبس بیجا میں رکھے جانے کی ویڈیو سامنے آنے پر سی پی او نے واقعے کا نوٹس لے لیا جب کہ واقعے کا مقدمہ خاتون کے والد کی مدعیت میں تھانہ پیرودھائی میں درج ہے۔

پولیس حکام نے ایس پی راول اور ڈی ایس پی سٹی کو واقعے کی میرٹ پر تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں خاتون کو حبس بیجا میں رکھے جانے کہ ویڈیو میں خاتون کو کرسی پر اپنا بیگ پکڑے بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے پاؤں پر لوہے کی بیڑی لگی ہوئی بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔

ایک شخص خاتون سے کچھ کہہ کر بیگ لینے کی کوشش کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

واضح رہے کہ شادی شدہ خاتون کے سسرال سے پُراسرار طور غائب ہونے کا والد زیارت گل کی مدعیت میں تھانہ پیرودھائی میں درج ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق تخت بھائی مردان سے تعلق ہے، میں غریب اور ضعیف العمر شخص ہوں۔ میری بیٹی عصمت آرا کی شادی تقریباً 4 سال قبل بورنگ روڈ کے رہائشی احسان علی سے ہوئی ۔

انہوں نے بتایا کہ شادی کے ابتدائی ایک ماہ بعد ہی میری بیٹی نے متعدد مرتبہ شکایت کی کہ اس کا شوہر احسان علی ، اس کے بھائی فاروق اور عثمان اسے تشدد و بدسلوکی کا نشانہ بناتے ہیں ۔ میری بیٹی اپنے سرال والوں کے ظلم وزیادتی ، دھمکیوں اور غیر انسانی رویے کی شکایت کرتی رہتی تھی اور ہم بطور والدین ہر مرتبہ اسے صبر ، برداشت اور گھر کو آباد رکھنے کی تلقین کرتے رہے، کیونکہ ہر والدین کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی کا گھر خو شحال اور آباد ر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی امید پر ہم معاملات ہر ممکن حد تک افہام وتفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ 11 جولائی کو میرے داماد کے بھائی فاروق نے اطلاع دی کہ آپ کی بیٹی گھر سے کہیں چلی گئی ہے۔ ہم نے تفصیل پوچھی کہ وہ کس وجہ سے اور کن حالات میں گھر سے گئی تو وہ کوئی معقول اور تسلی بخش جواب نہ دے سکا

خاتون کے والد نے بتایا کہ میری بیٹی کے ساتھ شادی کے آغاز ہی سے مسلسل تشدد و نارواسلو کیا جاتا رہا ہے۔ اس لیے مجھے قوی شبہ اور یقین ہے کہ مذکورہ افرادنے میری ہیٹی کےساتھ کوئی سنگین جرم کیا ہے یا زبردستی اغوا کرکے کہیں چھپارکھا ہے اور اس کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ میری بیٹی کی جان، عزت اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

مدعی مقدمہ نے کہا کہ میں ضعیف العمر شخص ہوں اور مردان سے اپنی بیٹی کی تلاش اور انصاف کی امید لے کر راولپنڈی آیا ہوں۔ میری بیٹی عصمت آرا کو فوری طور پر تلاش کر کے بحفاظت بازیاب کیا جائے۔ اس کے شوہر احسان ولد اصغر علی اور اس کے بھائیوں فاروق اور عثمان سے قانون کے مطابق مکمل تفتیش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوران تفتیش ان کے خلاف کسی بھی قسم کے جرم ، اغوا، غیر قانونی حبس بیجا ، تشد د اور شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف پاکستان کے قوانین کے مطابق فوری مقدمہ درج کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ میری بیٹی کی بازیابی کے بعد اس کا میڈیکل معائنہ کرایا جائے اور اس کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تا کہ اسے مزید کسی قسم کے نقصان یار باؤ کا سامنانہ کرنا پڑے۔ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور میرٹ پر تفتیش کرتے ہوئے مجھے قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے خاتون کو بازیاب کرا لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو بھی جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔

خاتون کے بھائی نے بتایا کہ اس کے بہنوئی اور سسرال والوں نے بھی 2 دن کی مہلت مانگ رکھی تھی کہ ہمشیرہ زنجیروں سے بندھے پاؤں کے ساتھ ضیا کالونی میں بیٹھی ملی ۔ اس ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے اور وہ ٹھیک سے ہمیں بھی نہیں پہچان رہی۔

Check Also

کوٹ رادھا کشن: گھر کی بجلی کا بل 42 ہزار، مزدور نے خودکشی کر لی

پنجاب کے شہر کوٹ رادھا کشن کے نواحی علاقے بھوتن پورہ میں ایک فیکٹری مزدور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *