پی اے سی؛ ایک ارب کی اسپاٹ خریداری پر چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن سے سوالات 

اسلام آباد(پبلک پوسٹ)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن سے ایک ارب سے زائد کی اسپاٹ خریداری پر سوالات کیے گئے۔پی اے سی کا اجلاس جنید اکبر کی زیرصدارت ہوا، جس میں اٹامک انرجی، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن سے ایک ارب سے زائد کی اسپاٹ خریداری پر سوالات کیے گئے۔ عمر ایوب نے کہا کہ کمیشن کو چاہیے کہ پہلے سے اس طرح کی خریداری کو طے کیا جاتا ہے، ایمرجنسی میں نہیں۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ 3سے 4 ماہ میں مذکورہ خریداری ہوئی، یعنی کوئی ایمرجنسی نہیں تھی۔

اٹامک انرجی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہماری نیشنل کمانڈ اتھارٹی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ایمرجنسی میں اس طرح کی خریداری کی جاسکتی ہے۔ جس پر خواجہ شیراز نے کہا کہ اگر پینٹ اور ائیر کنڈیشنر ایمرجنسی میں خریدے جارہے ہیں تو سوال تو اٹھتا ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ یہ کوئی حساس ادارہ نہیں ہے، نیوکلیئر پاور پلانٹ ایک سہولت نما ادارہ ہے۔ آپ مانیں کہ آپ سے غلطی ہوئی اور آئندہ اس میں احتیاط برتیں گے۔ اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین نے کمیٹی میں کہا کہ ہم تمام باتیں مانتے ہیں اور مستقبل میں اس بات کا خیال رکھیں گے۔

Check Also

2018 کے الیکشن نتائج پر بننے والی پی ٹی آئی حکومت جائز تھی تو یہ بھی جائز ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *