کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے برعکس لوگ تقسیم کی بات کر رہے ہیں، باہمی صلاح مشورے سے فیصلے لینے چاہئیں۔
مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی کو بولنے سے روک نہیں سکتے، سب اپنی رائے دیں لیکن اس وقت سب آئینی ماہر ہوگئے ہیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹ کی نئی اصطلاح آگئی ہے، بزنس فورمز 6 گھنٹے مباحثے کرتے ہیں اور چینل چلاتے ہیں لیکن اہمیت لوگوں کی ہے جو اپنی رائے کا اظہار اسمبلی کے ذریعے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صوبائی اسمبلی قومی اسمبلی کے قانون کو مسترد کر دے لیکن ہم نے بتا دیا ہے کہ دو تہائی اکثریت سے زیادہ لوگوں نے صوبے کی تقسیم کو مسترد کر دیا ہے، اگر باقی صوبے تقسیم چاہتے ہیں تو فیصلہ ان کی اسمبلی کرے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریباً سوا ماہ قبل کہا گیا کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے، بعد میں دیکھا تو سب تالیاں بھی بجا رہے تھے، سب سے زیادہ مراعات یافتہ سسٹم کولیپس کی بات کر رہا ہے۔ ہم آئین پر عمل کے پابند ہیں لیکن دو نظام نہیں ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسائل ہیں، اس صوبے اور شہر کو مزید بہتر کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کچھ کر رہے ہیں یا نہیں، اس کا جواب لوگ دیتے ہیں اور 20 سال سے صوبہ پہلے سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ نشستیں لے کر حکومت بنا رہا ہے۔
THE PUBLIC POST