کراچی (پبلک پوسٹ)اداکارہ حمیرا اصغر کی موت سے متعلق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ماڈل واداکارہ کی لاش 8 سے 10 ماہ پرانی ہے جسم پر کسی قسم کے تشدد یا ہڈی ٹوٹنے کے شواہد نہیں ملے، جبکہ کیمیائی تجزیے کے لیے بال اورکپڑوں کے ٹکڑے بھیجے گئے تھے۔
پولیس اور فرانزک ٹیمیں واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش مکمل طورپرڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی اورچہرے سمیت جسم کے کئی حصے پٹھوں سے خالی تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکارہ کے جسم کی تمام ہڈیوں کی ساخت مکمل اور موجود پائی گئی، لمبی ہڈیاں چھید داراورانتہائی نازک ہوچکی تھیں جبکہ جوڑغیرمعمولی طورپرحرکت پذیرتھے۔ چھاتیوں میں موجود سلیکون پیوند صحیح حالت میں موجود تھے۔ بالوں اورکپڑوں کے کچھ ٹکڑے کیمیائی تجزیے کے لیے لیب بھیج دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنسی زیادتی یا زخم کے کوئی واضح شواہد موجود نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چہرے کے پٹھے موجود نہیں تھے اوردانت ڈھیلی ساکٹس میں تھے جبکہ جلد سخت اور سیاہ دھبوں سے بھری ہوئی تھی۔ تمام ہڈیاں مکمل پائی گئیں جبکہ جسم کی حالت انتہائی خراب تھی۔یاد رہے کہ 3 دن قبل اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔