بھارت میں ورک کلچر ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گیا جب کمپنی کے باس نے بیماری کی چھٹی منظور کرنے کے لیے ملازم سے اس کی لائیو لوکیشن ہی مانگ لی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ملازم نے سوشل میڈیا پر واقعہ بیان کرتے ہوئے بھارتی ورک کلچر پر سوال اٹھایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ جس کا عنوان تھا ‘کیا لائیو لوکیشن مانگنا درست ہے؟’ میں ملازم نے باس کی واٹس ایپ چیٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں باس یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ملازمین کی لائیو لوکیشن لینا ایچ آر پالیسی کا حصہ ہے۔
وائرل ہونے والی پوسٹ کے مطابق ملازم شدید سر درد میں مبتلا ہونے کے باعث ایک دن کی چھٹی پر تھا۔
اگلے دن بھی طبیعت بہتر نہ ہونے پر اس نے دوبارہ چھٹی کی درخواست کی، جس پر باس نے پہلے ایچ آر سے بات کرنے کا کہا تو ایچ آرکی جانب سے درست دستاویزات پیش کرنے کی شرط عائد کی گئی۔
تاہم معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب باس نے واٹس ایپ پر ملازم سے لائیو لوکیشن شیئر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
ملازم نے بتایا کہ جب میں نے باس سے پوچھا کہ لوکیشن کیوں درکار ہے تو باس نے جواب دیا کہ یہ پالیسی کے مطابق ضروری ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی بحث کا موضوع بن گیا، جہاں صارفین نے اسے ملازمین کی نجی زندگی میں مداخلت اور پرائیویسی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا سر درد کے لیے درست دستاویز کیا ہوتی ہے؟ یہ خود ایک معمہ ہے۔ اگر میں بیمار ہوں اور سونا چاہوں تو کیا مجھے اپنی تکلیف کی تصاویر بھیجنی ہوں گی تاکہ چھٹی مل سکے؟
THE PUBLIC POST