ریاض میں امریکی سفارت خانے نے حملے کی تصدیق کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں ڈپلومیٹک کوارٹر میں 2 نئے دھماکے سنے گئے تھے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق واقعے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا، عمارت خالی ہونے کے سبب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا ردعمل جلد دکھائی دے گا، ردعمل میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی بدلہ شامل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا امریکا کے پاس میڈیم اور اپر میڈیم ہتھیاروں کا لامحدود ذخیرہ موجود ہے، امریکا کے میڈیم اور اپر میڈیم اسلحہ ذخائر جتنے آج بہتر ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں رہے۔
دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہی ذخائر کے ذریعے جنگیں طویل عرصے تک کامیابی سے لڑی جا سکتی ہیں، یہ اسلحہ دیگر ممالک کے بہترین ہتھیاروں سے بھی بہتر ہے۔
THE PUBLIC POST