تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا بحران، آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی منڈی کو ہلا دیا

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا ایک نئے عالمی توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے، جسے ماہرین تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی شاک قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا، اس کی بڑی وجہ عالمی تیل کی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد حصہ مارکیٹ سے کم ہونا بتایا جا رہا ہے، جو یومیہ تقریباً 2 کروڑ بیرل بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوئی جب اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ناکہ بندی کے باعث تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، یہ گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں یو اے ای اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی پیداوار کم کر دی ہے، جبکہ ایران کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتِ حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق سمندری جہاز رانی میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے، ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اہم تیل اور گیس تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث توانائی کی فراہمی رک گئی ہے۔

ایم ڈی آئی ایم ایف کے مطابق ایشیاء اور دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے توانائی کا تحفظ اب سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اسی طرح اے این زیڈ گروپ کے چیف اکنامسٹ نے کہا کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب جی سیون ممالک نے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

ماہرِ توانائی کے مطابق موجودہ صورتِ حال ان بدترین خدشات سے بھی آگے نکل چکی ہے جن کا پہلے تصور کیا جا رہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس بحران کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، مہنگائی اور سپلائی چین پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Check Also

ٹرمپ کے ایران جنگ خاتمے کے بیان کے بعد تیل کی قیمتیں گر گئیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ ممکنہ طور پر جلد ختم ہونے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *