ڈیفنس فیز 7 میں پولیس اہلکاروں اور ایک نوجوان کے درمیان تلخ کلامی کے واقعے کے بعد نوجوان کے والد علی انور کا بیان سامنے آ گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو بلاجواز ہراساں کیا گیا۔
علی انور کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ مؤقف اختیار نہ کریں کیونکہ وہ پورے سندھ کے ہوم منسٹر ہیں اور انہیں معاملے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود سرکاری ملازم ہیں جبکہ ان کی اہلیہ ایک سینئر پولیس افسر (ایس ایس پی) ہیں اور ان کا بیٹا تعلیم یافتہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ تھانے گئے جہاں ایس ایچ او سے بات چیت کی گئی، بعد ازاں متعلقہ انسپکٹر نے ان کی اہلیہ سے معافی مانگی اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کیریئر تباہ ہو جائے گا۔ علی انور کے مطابق اس معافی کے بعد انہوں نے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی، تاہم اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔
علی انور نے اپنے بیٹے پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شبہ ہے تو نشے کا ٹیسٹ کروا لیا جائے، ان کے مطابق ان کا بیٹا سگریٹ تک نہیں پیتا تو نشہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں جبکہ شہری حلقے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
THE PUBLIC POST