کراچی(پبلک پوسٹ)سندھ ہائی کورٹ نے موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے خلاف فوری سماعت کی درخواست مسترد کردی اور ہدایت دی ہے کہ اسے چھٹیوں کے بعد پیش کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے خلاف درخواست کوفوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حوالے سے سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کردی اور ہدایت کی درخواست چھٹیوں کے بعد پیش کی جائے۔
درخواست گزار کے وکیل مشتاق تبولی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ یہ فوری نوعیت کا معاملہ ہے ہزاروں موٹر سائیکل سواروں کے چالان ہو رہے ہیں۔
جسٹس ذوالفقار سانگی نے ریمارکس دیئے کہ یہ کچھ ہزار روپوں کا معاملہ چھٹیوں میں لے کر آگئے، لوگوں کے دیگر اہم کیسز بھی ہیں۔
سماجی کارکن فیضان حسین نے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور موقف اپنایا تھا کہ سندھ حکومت کے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے سے غریب شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، سندھ حکومت کے نوٹی فکیشن کے مطابق نئی نمبر پلیٹ نہ لگانے والے شہریوں کی گاڑیاں ضبط کرلی جائیں گی۔
درخواست گزار کے مطابق شہریوں نے پرانی نمبر پلیٹس رقم کی ادائیگی کے بعد حاصل کی تھیں حکومت کو نئی ڈیزائن کی نمبر پلیٹ مفت فراہمی کرنی چاہئیں، پرانی نمبر پلیٹس بھی حکومت کی جاری کردہ ہی تھیں نئی نمبر پلیٹس نہ ہونے پر جرمانے اور ضبطگی کی کوئی وجوہات نہیں ہیں موٹر وہیکل اور ٹریفک پولیس نئی نمبر پلیٹس کی بنیاد پر کاروبار شروع کردیا ہے۔ نمبر پلیٹ کے حصول کے لیے رقم وصول کی جارہی ہے۔ سرکاری ادارے نئی نمبر پلیٹس مہینوں انتظار کررہے ہیں جبکہ سڑک کنارے بیٹھے لوگ جعلی نمبر پلیٹس بنارہے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جارہا ہے، شہریوں کو مفت نئی نمبر پلیٹس جاری کرنے کا حکم دیا جائے، شہریوں پر جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی بند کی جائے۔درخواست میں سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، موٹر وہیکل رجسٹریشن ونگ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو فریق بنایا گیا ہے۔