کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جب کہ ان کی جگہ گریڈ 19 کی خاتون افسر سمیرا حسین کو اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
جمعرات کو چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کی برطرفی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق افضل زیدی کو سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ گریڈ 19 کی افسر سمیرا حسین کو میونسپل کمشنر کراچی کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے، جو آئندہ احکامات تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔
واضح رہے کہ سابق میونسپل کمشنر افضل زیدی 30 نومبر کو 3 سالہ ابراھیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر تنقید کی زد میں تھے۔
حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی میں بھی افضل زیدی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد آتشزدگی سے متاثرہ خستہ حال عمارت پر نصب وزنی اور دیو ہیکل سائن بورڈز ہٹانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، جس کے لیے کرین طلب کر لی گئی ہے۔
گل پلازہ میں پیش آنے والے سانحے کے بعد عمارت کی حالت کے پیش نظر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے خستہ حال عمارت پر نصب وزنی سائن بورڈز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایس بی سی اے کی تجویز پر عمارت سے سائن بورڈز ہٹانے کا کام باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمارت کے وہ حصے جو گرنے سے محفوظ رہے وہاں تاحال وزنی اور دیو ہیکل سائن بورڈز نصب تھے، جنہیں ہٹانے کے لیے کرین طلب کی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
ادھر جمعرات کے روز سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور پاکستان انجینئرنگ کاؤنسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا ہے۔
ٹینینکل کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کو گرادیا جائے جب کہ کمیٹی نے سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریش کے بعد منہدم کردیا جائے۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل پلازہ ہے، ہفتے کی شب 10 بجے لگنے والی آگ سے پورا پلازہ جل گیا۔ ایس بی سی اے ٹیم نے گل پلازہ سے متصل عمارتوں کا بھی معائنہ کیا۔
THE PUBLIC POST