وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی بچت اقدامات کے تحت سرکاری اور حکومتی سرپرستی میں خود مختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں سے 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی، ملازمین کی تنخواہوں سے بتدریج کٹوتی کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء عطاء اللّٰہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آئندہ 2 ماہ کے لیے وزراء، مشیران اور معاونِ خصوصی کی تنخواہوں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرائے مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی عائد رہے گی، کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عملدرآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے، سیکریٹریز روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کارپوریشنز اور دیگر اداروں میں حکومتی نمائندے بورڈ اجلاس میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے، اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائے گا۔
اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، ان اداروں کے ملازمین اپنے پرانے طریقۂ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق وزیرِاعظم نے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی ہوگی، سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کیے جانے کے فیصلے پر عملدرآمد کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔
THE PUBLIC POST