نجی ڈیولپرز کو خصوصی اقتصادی زونز کیلیےسرکاری زمین دی جائیگی

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جمعرات کو ایک اہم بل منظور کر لیا، جس کے تحت نجی ڈیولپرز کو خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے قیام کے لیے سرکاری اراضی مفت لیز پر دی جائے گی، جبکہ ان زونز سے متعلق تجارتی قانونی تنازعات میں عدالتوں کے اختیار کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی ایکٹ 2026 کو عجلت میں شق وار بحث کے بغیر منظور کیا۔ یہ بل 8 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور تیزی سے منظوری کے مراحل طے کیے گئے۔

اجلاس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کی۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر شیخ نے بتایا کہ حکومت کراچی میں 6 ہزار ایکڑ زمین خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے لیے ڈیولپرز کو بغیر کسی معاوضے کے لیز پر دے گی۔انھوں نے کہا کہ ہر ڈیولپر کو ایک ہزار ایکڑ تک زمین دی جا سکے گی، تاہم لیز کی شرائط ابھی طے نہیں ہوئیں۔

قانون کے مطابق اگر ایک سے زائد ڈیولپرز کا انتخاب کیا جائے تو زون کا رقبہ کم از کم ایک ہزار ایکڑ ہونا چاہیے اور ہر ڈیولپر کو کم از کم 500 ایکڑ زمین الاٹ کی جائے گی۔

پاکستان نے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کو دی جانے والی مراعات اور ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے ان زونز کے قیام کا بنیادی مقصد متاثر ہوا ہے۔

اجلاس میں ایس آئی ایف سی کے جوائنٹ سیکریٹری منصوبہ جات عتیق الرحمٰن نے بتایا کہ 2035 تک ٹیکس مراعات ختم کرنے کی شرط خصوصی اقتصادی زونز، خصوصی ٹیکنالوجی زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے ان اداروں کو بھی منظوری دی کہ جو آئندہ دس برسوں میں یا 30 جون 2035 تک، جو بھی پہلے ہو، تجارتی پیداوار شروع کریں گے، انھیں آمدنی پر تمام ٹیکسوں سے استثنا حاصل ہوگا۔

قیصر شیخ نے کہا کہ 2035 تک مراعات ختم کرنے کے وعدے کا یہ مطلب نہیں کہ اس مدت تک نئی مراعات نہیں دی جا سکتیں۔سرمایہ کاروں کی عدالتی تاخیر سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے قائمہ کمیٹی نے خصوصی اقتصادی اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام کی منظوری بھی دی، جبکہ عدالتوں کو ان معاملات میں مداخلت سے روک دیا گیا۔

یہ ٹریبونل خصوصی اقتصادی زونز سے متعلق تمام معاملات پر خصوصی اختیار رکھے گا اور ہر مقدمہ تین ماہ کے اندر نمٹانا لازم ہوگا۔

بل کے مطابق ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف صرف سپریم کورٹ پاکستان میں 60 دن کے اندر اپیل کی جا سکے گی، ہائی کورٹ سے رجوع کا اختیار نہیں ہوگا، جس سے مقدمات کے فوری فیصلے ممکن بنائے جائیں گے۔

نئے قانون کے تحت بورڈ آف انویسٹمنٹ سے زون درخواستوں کی منظوری کا اختیار واپس لے کر وفاقی خصوصی اقتصادی زون اتھارٹی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

زونز کی تعمیر و ترقی نجی ڈیولپرز کی ذمے داری ہوگی، تاہم سڑکیں، بجلی، گیس، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر سہولیات وفاقی و صوبائی حکومتیں فراہم کریں گی۔

پاکستان آئی ایم ایف سے ٹیکس مراعات ختم کرنے کے وعدے میں نرمی لینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم حکومت اس امر سے بھی آگاہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کو ناراض نہ کیا جائے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جمعرات کو جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا تعاون انتہائی اہم ہے۔

پاکستان کے لیے تقریباً 7.2 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کا مقصد معاشی استحکام، بیرونی ذخائر کی بحالی، مالیاتی نظم و نسق، توانائی قیمتوں اور گورننس اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔

Check Also

کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلیےبجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

اسلام آباد:بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کی درخواست سی پی پی اے کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *