امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیسیفک اوشین میں پکڑے گئے مبینہ طور پر ایران سے منسلک آئل ٹینکر سے متعلق پہلی بار ردعمل دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس اور امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام نے ایک جہاز کو تحویل میں لیا جس پر مشکوک سامان موجود تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جہاز پر موجود اشیا کے بارے میں واضح معلومات نہیں، تاہم امکان ظاہر کیا کہ یہ کسی بیرونی ملک، ممکنہ طور پر چین، کی جانب سے بھیجی گئی ہوں۔
صدر ٹرمپ نے اس معاملے میں چین کے ممکنہ کردار پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات مثبت رہے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق چین کی جانب سے ایران کو جدید دفاعی نظام فراہم کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، جس پر امریکہ پہلے ہی سخت ردعمل کا اشارہ دے چکا ہے۔
تاہم حالیہ بیان میں صدر ٹرمپ نے قدرے نرم مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات بین الاقوامی حالات میں پیش آتے رہتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کا آئندہ ماہ چین کا ممکنہ دورہ بھی متوقع ہے، جہاں اس معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ ایشیا پیسیفک میں ایک پابندی زدہ آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا گیا، جس کا تعلق ایران سے بتایا گیا، تاہم ایران کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
THE PUBLIC POST