پس پردہ رابطے، PTI اور حکام کے درمیان باہمی اعتماد کی بحالی شروع

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف اور ریاستی حکام کے درمیان خاموش پس پردہ رابطوں کے نتیجے میں وہ اقدامات سامنے آئے ہیں جنہیں باخبر ذرائع سیاسی کشیدگی میں کمی اور تصادم کم کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات قرار دیتے ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ پاکستان تحریک انصاف کے نمائندوں اور حکام کے درمیان ایک مفاہمت طے پائی۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ پیش رفت ان وسیع تر پس منظر رابطوں کا حصہ تھی جن کا مقصد اعتماد کی فضا قائم کرنا اور کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا کرنا تھا۔ ان مذاکرات کے دوران حکام کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو کچھ واضح ریڈ لائنز سے آگاہ کیا گیا۔ پہلی بات یہ کہ پاکستان تحریک انصاف کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوج پر براہراست تنقید سے گریز کرے اور اپنے بیانات یا عوامی خطابات میں مسلح افواج کو نشانہ نہ بنائے۔

دوسری بات یہ کہ اگرچہ پارٹی رہنماؤں بشمول خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور عمران خان کے اہل خانہ کو اسلام آباد آنے کی اجازت ہوگی، تاہم حکام نے واضح کیا کہ منظم قافلوں یا احتجاجی جلوسوں کو حساس علاقوں کی طرف جانے یا راستے اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ پیغام اسلام آباد کے چنگی نمبر 26 کے قریب منگل کی رات ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے اجتماع کے بعد دیا گیا، جہاں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں درجنوں گاڑیاں جمع ہوئیں اور مختصر دھرنا دے کر پرامن طور پر منتشر ہوگئیں۔

تیسری بات یہ کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اس بات سے بھی روکا گیا کہ وہ مبینہ طور پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیں، خصوصاً دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر۔ اسی مفاہمت کے تحت گزشتہ رات گرفتار کیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے بعض ارکان اسمبلی اور کارکنان کو بدھ کے روز رہا کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ان زیر حراست افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کو کمر درد کی شکایت ہے۔

اگر ڈاکٹرز اسپتال میں داخلے کی سفارش کریں تو حکام انہیں طبی مرکز منتقل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، بشرطیکہ پاکستان تحریک انصاف اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دے۔ ایک اور اہم پیش رفت میں حکام عمران خان کی ایک بہن نورین خانم سے ملاقات کی سہولت فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جن کی ان تک رسائی گزشتہ چند ماہ سے محدود ہے۔ اسی طرح ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کی بیٹیوں کو بھی آنے والے دنوں میں اپنی والدہ سے ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کر دی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کے روز ان کی سزا کے خلاف فوجداری اپیلوں کی سماعت ہونی تھی، تاہم ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کی باہمی مفاہمت کے تحت سماعت اس انداز میں ملتوی کی گئی کہ فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکے۔

سیاسی مبصرین ان پیش رفتوں کو دونوں طرف سے اہم خیرسگالی اور اعتماد سازی کے اقدامات قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ عمل جاری رہتا ہے تو اس سے پاکستان تحریک انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور ایک زیادہ مستحکم سیاسی ماحول کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

Check Also

مجھے شاہ رخ خان کے ساتھ مرکزی کردار کی پیشکش ہوئی تھی: اداکارہ میرا

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا نے بالی ووڈ فلم میں شاہ رخ خان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *