اسلام آباد: ایران سے پاکستان کے لیے گیس لینے میں کیا رکاوٹ ہے، اس حوالے سے وزیر پیٹرولیم نے سینیٹ اجلاس میں تفصیلات بتا دیں۔
سینیٹ کا اجلاس پریذائڈنگ افسر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہوا، جس میں پاک ایران گیس پائپ لائن کی عدم تکمیل اور ملک میں گیس کی کمی پر سینیٹر طلحہ محمود نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ دو دہائیوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ ایران نے اپنی طرف پائپ لائن پاکستان کی سرحد تک بچھا دی ہے، تاہم یہ سوال موجود ہے کہ پابندیاں ختم ہونے پر پاکستان ایرانی گیس لینے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
سینیٹر طلحہ محمود نے پوچھا کہ پاکستان نے اپنی طرف پائپ لائن بچھانے کی کتنی تیاری مکمل کی ہے اور کیا پاکستان ایرانی گیس فوری طور پر اپنے نظام میں شامل کرسکتا ہے؟ پابندیاں ختم ہونے کے بعد پائپ لائن فعال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟
انہوں نے مزید سوال کیا کہ ایران نے تیاری کرلی ہے تو پاکستان نے گیس وصولی کے لیے کیا تیاری کی ہے، منصوبے پر عملی پیش رفت کہاں تک پہنچی اور کیا ایرانی گیس کی ترسیل کے لیے انفرا اسٹرکچر مکمل کرلیا گیا ہے؟ پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں کیا ایرانی گیس فوری دستیاب ہوسکے گی؟
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر پابندیاں موجود ہیں، اس لیے عملی اقدامات نہیں کیے جارہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر دونوں فریقین دوستانہ ماحول میں حل ڈھونڈ رہے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں ایران گیس پائپ لائن کے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایران پاک پائپ لائن میں ایران نے کافی کام کرلیا ہے اور اپنے علاقے پارس تک گیس فراہم کردی ہے، تاہم پابندی کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے پیش رفت نہیں ہوئی۔
وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ ایران پیرس میں ثالثی عدالت بھی گیا ہوا ہے۔ جو دونوں ممالک کو قابل قبول ہو، اس پر کام ہورہا ہے۔ ایران گیس منصوبے پر وزیراعظم نے اسٹیئرنگ کمیٹی بنائی ہوئی ہے، جس میں اسحاق ڈار، اٹارنی جنرل اور وہ خود شامل ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پائپ لائن کی قانونی کارروائی کا مسئلہ سر پر لٹکا ہوا ہے۔ قانونی معاملات کو دیکھ کر اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع گزشتہ سال کی نسبت کم ہوگا۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کی تفصیلات وزارت خزانہ کے پاس ہوتی ہیں۔
THE PUBLIC POST