بھارت کی آبی جارحیت کسی صورت قبول نہیں – فراز الرحمٰن

اسلام آباد(بزنس رپورٹر) پاکستان بزنس گروپ (PBGO) کے بانی اور سابق چیئرمین کاٹی، فراز الرحمٰن نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کے مطالبے اور مستقل سندھ کمیشن کے اجلاسوں کی معطلی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی قیمت پر اپنے پانی کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ بھارت کی “Coercive Diplomacy” یعنی دباؤ کی پالیسی ناکام ہوگی، اور اگر اس نے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے
فراز الرحمٰن نے خبردار کیا کہ بھارت آبی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کی معیشت اور زراعت کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہا ہے، لیکن پاکستان اس کا ہر ممکن جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانی زندگی اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی بھارتی مداخلت کو قومی سلامتی کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا بھارت کی چالاکیاں بے نقاب ذرائع کے مطابق، بھارت نے 2023 سے اب تک تین بار معاہدے پر نظرثانی کے لیے مذاکرات کی درخواست دی، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ مستقل سندھ کمیشن ہی اس معاملے کے حل کے لیے موزوں فورم ہے۔ بھارت کی جانب سے اجلاسوں کی معطلی اور براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ دراصل ایک چال ہے تاکہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر اپنے حق میں تبدیل کر سکےپاکستان کا دوٹوک مؤقف فراز الرحمٰن نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر عالمی سطح پر بھارت کے غیر قانونی عزائم کو بے نقاب کرے اور عالمی بینک، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ اگر اس نے آبی جارحیت کی کوشش کی تو پاکستان ہر ممکن قدم اٹھائے گا، چاہے وہ سفارتی ہو یا عسکری۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اب محض احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پاکستان کے پانی کے حقوق محفوظ رہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو بھی متنبہ کیا کہ اگر بھارت نے اپنی آبی جارحیت بند نہ کی تو اس کے بھیانک نتائج پورے خطے کو بھگتنا ہوں گی

Check Also

کوئٹہ نہ جانے دیا تو مستونگ میں دھرنا دیں گے، بلوچ خواتین کو رہاکیا جائے، اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی- ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *