ٹرمپ سے اختلافات ختم؟ایلون مسک کا بڑا اقدام سامنے آگیا

امریکا کے ارب پتی بزنس مین اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے 2026ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کی مالی تعاون کرنے کا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ برس ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شدید سیاسی اختلافات دیکھنے میں آئے تھے۔

ایلون مسک کی مجموعی دولت 726.4 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے اور عام انتخابات میں ٹرمپ کو بھاری فنڈز مہیا کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ جس کے باعث ٹرمپ نے میدان مارلیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے بھی ’’حقِ نمک‘‘ ادا کرتے ہوئے ایک اہم وزارت ایلون مسک کے حوالے کردی تھی لیکن جلد ہی دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

یہ اختلافات گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اتنے زیادہ ہوگئے کہ بالآخر ایلون مسک کو وزارت چھوڑنا پڑی۔ ٹرمپ نےعوامی اجتماعات میں اپنے پرانے دوست کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ جب رواں برس نومبر میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں کی توثیق کے لیے دوبارہ انتخابی مرحلے سے گزرنا ہوگا تو ایلون مسک ’بدلہ‘ نہ لیں۔

جس کے باعث اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ نے بھی ایلون مسک کو شیشے میں اتارنے کے لیے بیک ٹو ڈور روابط بڑھانے کی کوشش کی تھی اور ممکن تھا کہ ایلون مسک ٹرمپ کی مخالفت پر آمادہ ہوجاتے۔

تاہم ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام جاری کرکے سب کو نہ صرف حیران کردیا بلکہ افواہوں نے بھی دم توڑ دیا،

انھوں نے کہا کہ اگر ’’ریڈیکل لیفٹ‘‘ دوبارہ اقتدار میں آئی تو امریکا کو شدید نقصان پہنچے گا جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد ہوگی ملک اپنی شناخت کھو بیٹھے گا اور دھوکہ دہی عام ہوجائے گی۔

ایلون مسک کا یہ تازہ بیان واضح طور پر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے قومی بیانیے کے قریب تر سمجھا جا رہا ہے اور باخبر ذرائع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک اب ٹرمپ کے دوبارہ قریب آرہے ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے پس پردہ کئی ماہ تک دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں جن کے نتیجے میں یہ قربت ممکن ہوئی۔

دوسری جانب ٹرمپ کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے لیے پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ پُر امید تھے کہ حال ہی میں ریپبلکن پارٹی کو بدعنوان قرار دینے والے ایلون مسک مڈٹرم میں ڈیوکریٹس کے قریب آجائیں گے۔

قبل ازیں جولائی 2025ء میں ایلون مسک نے دو جماعتی سیاسی نظام کو توڑنے کے لیے ’’امریکا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش بھی کی تھی جو کامیاب نہ ہوسکی۔

یہ بھی یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں تقریباً 290 ملین ڈالر کے عطیات دیے تھے، جن سے ریپبلکن امیدواروں کو خاطر خواہ کامیابی ملی۔

موجودہ حالات میں ان کی تازہ حمایت کو ٹرمپ کے امیگریشن اور حکومتی اخراجات سے متعلق ایجنڈے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

یوں ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ماضی کے شدید اختلافات کے باوجود، موجودہ سیاسی منظرنامے میں دونوں کے مفادات ایک بار پھر ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں، جو 2026ء کے مڈٹرم انتخابات پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

Check Also

’ایران کی جانب بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا‘ ایرانی قیادت کا ٹرمپ کے بیان پرسخت ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *