مانچسٹر، کشتی حادثے میں 22 افراد کی موت، 2 سوڈانیوں کو عدالتی کارروائی کا سامنا

مہاجرین کی کشتی کو پیش آنے والے المناک حادثے میں کم از کم 22 افراد کی ہلاکت کے بعد دو سوڈانی باشندوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں بچ جانے والے افراد نے بیان دیا کہ اسمگلرز نے کشتی میں موجود افراد کو چھ دن تک سمندر میں رکھنے کے بعد، جب خوراک اور پانی ختم ہو گیا، تو بعض مسافروں کو سمندر میں پھینکنے کا حکم دیا۔

حکام کے مطابق گرفتار دونوں افراد پر الزام ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے اور انہوں نے 22 افراد کو جان بوجھ کر سمندر میں دھکیل کر ہلاک کیا۔

ملزمان کو Heraklion میں ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں انہیں تفتیش کے سلسلے میں مؤقف پیش کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر Libya سے جنوب مشرقی یورپ تک غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔

ونانی پولیس کے مطابق Tobruk سے تقریباً 200 ناٹیکل میل کے سفر کے بعد بچ جانے والے 26 افراد—جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں—نے ہلاک ہونے والے 22 افراد کے ذمہ داروں کے خلاف بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔

عدالت میں اس کیس کی سماعت جاری ہے اور حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

Check Also

بیکٹیریا سے بھی چھوٹا کیو آر کوڈ تیار

سائنس دانوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک منفرد کامیابی حاصل کرتے ہوئے بیکٹیریا سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *