پاکستان میں استعمال شدہ یا نئی گاڑی امپورٹ کرنے کا طریقہ کار

پاکستان میں نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کا عمل اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور منظم بنا دیا گیا ہے۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کے لیے ایک نیا اور سخت ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) جاری کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔

نئے قواعد و ضوابط کے تحت اب صرف وہی کمپنیاں گاڑیاں درآمد کرنے کی اہل ہوں گی جو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں اور جن کے دستاویزات میں گاڑیوں کی درآمد کو بنیادی کاروبار کے طور پر ظاہر کیا گیا ہو۔

مزید برآں، ٹیکس قوانین کی مکمل پابندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ امپورٹر کے لیے مستند NTN کا حامل ہونا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہونا ضروری ہوگا۔

حکومت نے مالی لین دین کے نظام کو بھی سخت کر دیا ہے۔ اب تمام ادائیگیاں صرف بینکاری ذرائع کے ذریعے انجام دی جائیں گی تاکہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

اس کے علاوہ، امپورٹرز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ملک بھر میں 3S نیٹ ورک (سیلز، سروس اور اسپیئر پارٹس) قائم کریں یا کسی مستند پارٹنر کے ساتھ اشتراک کریں۔ انہیں تحریری ضمانت بھی فراہم کرنا ہوگی کہ گاڑی کی پوری مدتِ استعمال کے دوران اصل اسپیئر پارٹس کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔

معیار کو یقینی بنانے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پہلا معائنہ شپمنٹ سے قبل بیرونِ ملک ای ڈی بی منظور شدہ ادارے کریں گے، جبکہ دوسرا معائنہ پاکستان پہنچنے پر کیا جائے گا، جس کے تمام اخراجات امپورٹر برداشت کرے گا۔

مزید یہ کہ ہر فروخت ہونے والی گاڑی کے ساتھ اردو اور انگریزی زبان میں سرٹیفکیٹ آف کنفارمیٹی فراہم کرنا بھی لازمی ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں نان فائلرز اور غیر رجسٹرڈ امپورٹرز کی حوصلہ شکنی ہوگی، جبکہ مارکیٹ میں صرف معیاری اور قابلِ اعتماد گاڑیوں کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔

Check Also

سندھ: ابتک منکی پاکس سے 9 اموات رپورٹ

سندھ میں منکی پاکس سے اب تک 9 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ محکمۂ صحت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *