مصنوعی ذہانت نے فلم انڈسٹری کا انداز بدل دیا، کیا روایتی فلم سازی ختم ہوجائے گی؟

فلمی صنعت ایک اہم تکنیکی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں روایتی فلم سازی کے طریقے تیزی سے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھل رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، جن میں کیمرہ ورک، ہدایت کاری اور موسیقی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی نے نہ صرف فلم سازی کے انداز کو تبدیل کیا ہے بلکہ ناظرین کے دیکھنے کے تجربے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق Collective Artists Network، جو ماضی میں بڑے اداکاروں کے کیریئر مینجمنٹ کے لیے جانی جاتی تھی، اب ڈیجیٹل اداکار تخلیق کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ بنگلور میں قائم اس کے اسٹوڈیوز میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہندو مذہبی داستانوں پر مبنی فلمیں اور سیریز تیار کی جا رہی ہیں، جن میں Ramayana اور Mahabharata جیسے موضوعات شامل ہیں۔

بھارت، جو دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، وہاں Shah Rukh Khan اور Amitabh Bachchan جیسے بڑے ستاروں کے کروڑوں مداح موجود ہیں۔ تاہم آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے رجحان نے روایتی سنیما گھروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں ایک ارب سے زائد افراد سنیما گھروں کا رخ کرتے تھے، مگر 2025 تک اس تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس بدلتی صورتحال میں فلم ساز تیزی سے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اب مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ فلمیں، مختلف زبانوں میں خودکار ڈبنگ، اور حتیٰ کہ پرانی فلموں کے متبادل اختتام بھی ممکن ہو چکے ہیں، جس سے لاگت میں کمی اور وقت کی بچت ہو رہی ہے، اگرچہ ناظرین کا ردعمل ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔

اسی تناظر میں Eros Media World نے 2013 کی فلم Raanjhanaa کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے اختتام کے ساتھ دوبارہ پیش کیا، جس میں مرکزی کردار کو زندہ دکھایا گیا۔ اس تبدیلی پر فلم کے اداکار Dhanush نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فلم کی اصل روح متاثر ہوئی، تاہم اس کے باوجود فلم تجارتی لحاظ سے کامیاب رہی۔

Check Also

سندھ کے علاوہ ملک بھر میں بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سندھ کے علاوہ ملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی دکانیں، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *